آٹومیشن ، مصنوعی ذہانت اور مارکس (آخری حصہ)

Share this

کیا ٹیکنالوجی کی جدت نے مارکس کے نظریات کو متروک کر دیا؟

تحریر: الطاف بشارت

آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت

اٹھارویں صدی کا صنعتی انقلاب کام کرنے والی مشین سے شروع ہوا. یہ ذرائع پیداوار کی تاریخ میں تیز رفتار ترین ترقی کا عہد ثابت ہوا. صنعتی انقلاب وہ عہد تھا جس نے ماضی کی تمام تاریخ کو نا صرف فرسودہ کر دیا بلکہ تاریخی واقعات اور انسانی ترقی کی تمام حاصلات کو نئے رخ کی طرف موڑ دیا! ماضی فرسودہ ہوتا ہوتا ناپید ہو گیا اور ایک نئے سماجی ڈھانچے کا آغاز ہوا ـ

 ابتداء میں اس بات کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی تھی کہ حرکی قوت قدرتی ہے یا انسانی. خاص فرق یہ تھا کہ انسان صرف اپنے اعضاء ہی استعمال کرتا ہے جبکہ بعض حدود کے اندر مشین ضرورت کیمطابق کئی اوزاروں سے کام لے سکتی ہے. مشین ساز خود کاری فیکٹری کی ایسی کامل ترین شکل سامنے لائی جس نے بڑے پیمانے کی دستکاری اور مینوفیکچرنگ کی بنیاد کو ختم کر دیا. بنیادی طور پر مشین کی ایجاد فطرت کی طاقتوں پر انسان کی بہت بڑی فتح تھی. لیکن سرمایہ دارانہ بنیادوں پر مشین کے ذریعے اس نظام نے ‘آزاد مزدور’ کو جنم دیا. آزاد اس معنی میں کہ انسان کے ہاتھ سے تمام ہنر، اوزار اور بقاء کے تمام وسیلے چھین لیے اور اسے آزاد چھوڑ دیا کہ وہ اپنی بقاء ممکن بنانے کیلئے قوت محنت بیچنے اور مشین کی غلامی قبول کرنے یا نہ کرنے پر آزاد ہے. مشین کے آغاز سے ہی انسان کو مشین کا ایک پرزہ بنا دیا گیا ـ

سرمایہ داری اپنے آغاز سے ہی ایسی مشینری کی متلاشی رہی جو انسانی پیداواری صلاحیتوں کو تیز سے تیز ترین کرنے کے اہل ہو. پیداوار میں اضافہ تو ہو لیکن مزدوروں کی تعداد میں کمی ہوتی رہے اور اوزار انسانوں کے بجائے مشین میں منتقل ہوتے رہیں. درحقیقت انقلابی تکنیکی بنیادوں پر قائم بڑے پیمانے کی صنعت نے ہر چیز کی فراوانی والے معاشرے کے قبل از قیام حالات کو جنم دیا ہے. لیکن سرمایہ دارانہ نظام میں انقلابی صنعتی بنیادوں اور ان کی اختیار کی ہوئی شکلوں کے درمیان بہت بڑا تضاد موجود ہے. سرمایہ دارانہ نظام کا یہ جبلی تضاد ناصرف انسانوں سے ان کے ذرائع معاش چھینتے ہوئے ان کو مفلسی و ناداری میں زندگی گزارنے پر مجبور کرتا ہے بلکہ آئے روز بھوک و افلاس سے سسکتے انسانوں کی تعداد میں اضافہ کرتا جاتا ہے. یہ تضاد ترقی کی اس منزل تک پہنچنے کے لیے دی جانے والی لامحدود انسانی قربانیوں کو بے رحمی سے روندتے ہوئے اپنی سماجی انارکی کے تباہ کن اثرات کو مزید گہرا کرتا جاتا ہے. یہ تضاد سرمایہ دارانہ سماج میں قدرِ استعمال کی پیداواری شکل کی بنیاد پر اس مادی دولت میں اضافے کا سبب ہے جس کی بنیاد محنت کے بدترین استحصال پر قائم ہے. یہ تضاد ایک طرف مستقل سرمائے میں اضافے کا موجب ہوتا ہے جبکہ دوسری طرف متغیر سرمائے کی مقدار کو کم سے کم کرنے کا سبب ـ

مارکس بار بار یہ زور دیتے ہیں کہ “مشین کے سرمایہ دارانہ استعمال میں یہ تضاد و عداوت لازم و ملزوم ہیں…. اپنی ذات میں مشین کا استعمال محنت کے اوقات کار میں کمی کرتا ہے لیکن اس کا سرمایہ دارانہ استعمال اوقات کارِ محنت کو مزید طویل کر دیتا ہے… اپنی ذات میں مشین کام میں سہولت فراہم کرتی ہے لیکن سرمایہ دار کی طرف سے اس کا استعمال کام کی شدت کو مزید بڑھا دیتا ہے…. اپنی ذات میں یہ فطرت کی طاقتوں پر انسان کی بہت بڑی فتح ہے لیکن جب یہ سرمایہ دار کی طرف سے لاگو کی جاتی ہے تو انسان کو فطرت کی طاقتوں کے ساتھ جوت دیتی ہے… [حتمی طور پر] اپنی ذات میں یہ اپنی خالق کی دولت میں اضافہ کرتی ہے لیکن اس کا سرمایہ دارانہ استعمال مفلسی و ناداری میں اضافہ کرتا ہے”. (داس کیپٹل)

کارل مارکس نے 150 سال قبل سرمایہ داری کے تحت مشین کے ذریعے مزدوروں کو کام سے ہٹائے جانے کے عمل کو زیر بحث لایا تھا. کلاسیکل ماہرین اقتصادیات کے ان مبنی بر حقیقت حقائق یعنی کہ ‘جب مزدور مشین کے ہاتھوں کارخانے سے باہر محنت کی منڈی میں پھینک دیا جاتا ہے تو محنت کی منڈی میں سرمایہ دارانہ استحصال کے رحم و کرم پر موجود قوت محنت کی مقدار میں اضافہ ہو جاتا ہے.’ کے برعکس مارکس نے محنت کش طبقے کے متبادل کی حیثیت سے مشنیری کے استعمال کے اثرات کو ایک خوفناک لعنت قرار دیا ہے ـ

گرنڈریس میں مارکس لکھتے ہیں: “موجودہ وقت کیلیے میں اتنا ہی کہوں گا وہ محنت کش جو صنعت کی ایک برانچ سے باہر کر دئیے گئے وہ بلاشبہ ایک نئی برانچ میں روزگار تلاش کریں گے…. یہاں تک کہ اگر ان کو کہیں بھی روزگار نہیں ملتا تو انہیں کتنے برے امکانات کا سامنا کرنے پڑے گا! محنت کی تقسیم سے متاثر ہونے والے یہ غریب شیطان اپنے پرانے کاروبار سے باہر انتہائی کم حیثیت کے مالک ہیں کہ انہیں سوائے چند کم تر صنعتوں میں شدید استحصال اور کم اجرت والی برانچوں میں داخلے کے سوا صنعت کی اور کسی برانچ میں داخلے کی اجازت نہیں ملتی. مزید برآں صنعت کی ہر شاخ ہر سال افراد کے ایک نئے سلسلے کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے جو خالی اسامیوں کو پر کرنے کیلیے نیا دستہ فراہم کرتی ہے…. جیسے ہی مشینری کسی دی گئی صنعت کی شاخ سے مزدوروں کے ایک حصے کو باہر کرتی ہے تو ریزرو افراد کو بھی روزگار کے نئے وسیلوں کی طرف موڑ دیا جاتا ہے اور دیگر برانچوں میں جذب ہو جاتے ہیں دریں اثناء اصل متاثرین فاقوں کا شکار رہتے رہتے قابل رحم حالات میں بھوک کے ہاتھوں ہلاک ہو جاتے ہیں” ـ

اس تناظر میں مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کی جدت نے مستقبل، پیداوار اور شرح منافع (قدر زائد) کے بارے میں سنجیدہ سوالات جنم دئیے ہیں. ہم مختصراً اس کو سمجھنے کے لیے ذہانت اور مصنوعی ذہانت سے آغاز کرتے ہیں. ہم سب سے آسان انسانی رویوں کو ذہانت سے منسوب کرتے ہیں جبکہ حشرات کے پیچیدہ ترین رویوں کو کبھی بھی ذہانت کے اشارے کے طور پر استعمال نہیں کرتے، مثلا شہد کی مکھیاں یا پھر فن تعمیر کے شاہکار چیونٹیاں کیا آپ نے کبھی ان کے رویوں کا مشاہدہ کیا؟ ان کی زندگیاں پیچیدہ ترین رویوں اور نظم و ضبط میں بسر ہوتی ہیں ـ

ذہانت بنیادی طور پر غیر حاضر کو حاضر میں ڈالنے کی صلاحیت کا نام ہے. ماہرین نفسیات عموماً انسانی ذہانت کو ایک خصلت کے طور پر ظاہر نہیں کرتے بلکہ اس کی مختلف صلاحیتوں کے امتزاج سے ظاہر کرتے ہیں ـ

مصنوع ذہانت ڈیجیٹل کمپیوٹر یا کمپیوٹر کے ذریعے کنٹرول ہونے والے روبوٹس کی وہ صلاحیت ہے جو عمومی طور پر انسانی ذہن سے وابستہ کاموں کو سر انجام دے سکتی ہے. مصنوعی ذہانت کی اصطلاح انسان کے فکری عمل سے موسوم ترقی پزیر منصوبوں پر لاگو ہوتی ہے جیسے استدلال کی صلاحیت، کسی چیز کے معنی تلاش کرنا اور ماضی کے تجربات سے سیکھنے کی صلاحیت وغیرہ. 1940 کی دہائی میں ڈیجیٹل کمپیوٹر کی ترقی کے بعد یہ ثابت کر دیا گیا ہے کہ کمپیوٹر کو انتہائی پیچیدہ کام سر انجام دینے کے لیے پروگرام کیا جا سکتا ہے. مثلاً ریاضی کے تھیورزم کیلیے ثبوت کی دریافت یا شطرنج کھیلنا وغیرہ.

تاہم، کمپیوٹر پروگرامنگ کی تیز رفتاری اور میموریز کی صلاحیتوں میں مسلسل ترقی کے باوجود ابھی تک کوئی ایسا سافٹویئر نہیں بن سکا جو مختلف شعبوں میں انسان کی ہمہ جہتی صلاحیتوں کو جذب کر سکے اور ایسے امور سر انجام دے سکے جو روزمرہ کے بہت وسیع علوم کے متقاضی ہیں. تاہم کچھ پروگرامز نے بعض مخصوص امور سرانجام دینے کے لیے انسانی ماہرین اور پیشہ ور افراد کی کارکردگی کی سطح حاصل کر لی ہے. اس طرح کی مصنوعی ذہانت طبی تشخیص کے لئے استعمال ہونی والی ایپس، کمپیوٹر سرچ انجن، راستوں کی نشاندہی آواز یا تحریر شناخت (وغیرہ) جیسی اپلیکیشنز میں پائی جاتی ہے ـ

جیسے حشرات بار بار دہرائے جانے والے زندگی کے دائرے میں گردش کرتے ہیں ایسے ہی مشینری بار بار دہرائے جانے والے کام سرانجام دیتی ہیں اور ان میں انسٹال کی جانے والی ذہانت ایک دائرے میں گردش کرتی ہے اس لیے ان کی میموری کو مصنوعی ذہانت کا نام دیا جاتا ہے شائد یہی وجہ ہے کہ حشرات کے پیچیدہ ترین رویے ذہانت کے اشاروں کے طور پر استعمال نہیں ہوتے. مصنوعی ذہانت نے بنیادی طور پر ذہانت کی درج ذیل اجزاء پر توجہ مرکوز رکھی ہے؛ سیکھنا، استدلال [(صورتحال کے مطابق قیاس آرائی کرنا- سائنس میں استدلال عام ہے جہاں مواد اکٹھا کیا جاتا ہے اور مستقبل کے رویوں کی وضاحت اور پیشگوئی کی جاتی ہے. ریاضی اور منطق میں استدلال عام ہے، جہاں بنیادی محوروں اور اصولوں کے چھوٹے سے سیٹ سے ناقابل تردید نظریات کے وسیع ڈھانچے بنائے جاتے ہیں. {پروگرامنگ نے قیاس آرائیوں میں کافی کامیابی حاصل کی تاہم حقیقی استدلال بہت بلند سطح پر قائم ہے جہاں مصنوعی ذہانت کو مسائل  درپیش ہیں})]، ادراک، تعمیم اور زبان کا استعمال تاہم بہت سی پیچیدگیاں ابھی بھی حل طلب ہیں اور ممکنہ طور پر سالوں پر نہیں صدیوں پر محیط ارتقاء کی متقاضی ہیں ـ

یہ سمجھنے کے بعد کے مشین اور سرمایہ دارانہ طرز پیداوار کے جبلی تضاد و عداوت کی یہ لازمیت ہے کہ پیداواری عمل میں مستقل سرمائے کی مقدار زیادہ سے زیادہ ہو اور مزدور کی تعداد کم سے کم تاکہ کم پیداواری لاگت سے زیادہ سے زیادہ پیداوار کو ممکن بنایا جا سکے یقیناً مصنوعی ذہانت اور روبوٹس پیداواری شعبے میں لاکھوں روزگار تباہ کر دیں گے بہت سے تحقیقاتی مطالعے یہ باور کرواتے ہیں کہ اس تباہی کے نتیجے پیدا ہونے والے روزگار محدود اور کم اجرتوں کے حامل ہوں گے. کورونا وبا کے آغاز سے معیشت کے ڈھانچے کی آٹومیشن کی جانب منتقلی میں تیز رفتاری آئی اور روزگار کی تباہی تیز ہوئی ـ

آکسفورڈ کے دو معیشت دانوں کارل بینڈکٹ فری اور مائیکل اوسبرن نے 2016 میں معالجین ٹورسٹ گائیڈز، جانوروں کو سدھارنے والے اور فنانس کے ذاتی صلاح کاروں سمیت تیکنیکی تبدیلیوں کے نتیجے میں صضائی کی حد تک ختم ہونے والے تقریباً 702 پیشوں کا مشاہدہ اس نچوڑ پر ختم کیا کہ “اندازوں کے مطابق امریکہ کا تقریباً 47 فیصد روزگار خطرے میں ہے. درمیانی آمدن والے پیشوں کی طلب میں کمی کے بجائے ہمارا پیٹرن یہ ظاہر کرتا ہے کہ آٹومیشن کم اجرتوں اور کم صلاحیتوں والے روزگار کا متبادل ثابت ہو گی اس کے مقابلے میں بلند اجرتوں اور صلاحیتوں والے روزگار کمپیوٹر سرمائے سے بہت کم متاثر ہوں گے”. ایسے ہی زیبا ریسرچ کے کے ایک مصنف جیک فیلن کی حالیہ تحقیق کے مطابق “2020 کے بعد امریکہ میں آٹومیشن کے باعث کم از کم 260،000 ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں. یہ تعداد مینوفیکچرنگ انڈسٹری کی کل افرادی قوت کا 2 فیصد بنتی ہے” ـ

ورلڈ اکنامک فورم کے ایک تخمینے کے مطابق آنے والے 5 سے 7 سالوں میں آٹومیشن کے باعث تقریباً 71 ملین روزگار کا ختم ہوں گے. جبکہ اسی دورانیہ میں صرف دو ملین روزگار پیدا ہوں گے. تاہم کنسلٹنسی ڈیلیوٹ کے معیشت دانوں کیمطابق بجائے روزگار کی تباہی کے “ٹیکنالوجی تاریخی طور پر روزگار تخلیق کرنے کی عظیم مشین ہے…. دیکھ بھال، تخلیق، ٹیکنالوجی اور کاروباری خدمات کے شعبوں میں تیز ترقی کی وجہ سے غالب رجحان زراعت اور مینوفیکچرنگ میں روزگار کے معاہدوں کا ہے…. مشین بار بار دہرائے جانے والے اور زیادہ محنت طلب کام کریں گی، لیکن گزشتہ 150 سالوں میں کسی بھی وقت کی نسبت مشین انسانی محنت کی ضرورت ختم کرنے کے قریب ہو ایسا دکھائی نہیں دے رہا”. چونکہ تیسری دنیا کا معاشی ڈھانچہ ابھی تک فرسودہ اور ترقی پزیر شکل میں ہے اس نسبت آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے تیسری دنیا پر انتہائی محدود اثرات مرتب ہوں گے ـ

یقینی طور پر مالیاتی شعبے میں ایک سیکھنے اور سمجھنے والا کمپیوٹر آج کے انتہائی تیز اور سرمایہ کاری کے انتہائی پیچیدہ ترین الگورتھم کو بھی فرسودہ بنا سکتا ہے لیکن انسانوں کی ہمہ جہتی صلاحیتوں، بالخصوص افزائش نو کی صلاحیت حاصل کر پائے ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا. ٹیکنالوجی مزدور کو کسی ایک مخصوص صنعت سے باہر کر سکتی ہے لیکن مجموعی صنعت کیلیے ایسا بلکل بھی درست نہیں. اگر آج بہت سی روزگار آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت سے ختم ہو رہی ہیں تو یقیناً ٹیکنالوجی مزید ملازمتیں اور پیشے بھی تخلیق کرے گی. انیسویں صدی کے آخر میں امریکہ کی نصف آبادی زراعت سے منسلک تھی جب تکنیکی تبدیلیوں نے ان روزگاروں کو متروک کر دیا تو اسی وقت نئے پیشوں (الیکٹریکل انجنئیر، کمپیوٹر پروگرامرز وغیرہ) کا پورا بیڑا تیار تھا. ایسے ہی اے ٹی ایم کا اختراع بھی ایک بہترین مثال ہو سکتی ہے ـ

پیداواری عمل سے انسانی محنت کو ختم کرنا ناممکن ہے. یہی وجہ ہے کہ سرمایہ دار ہمیشہ مزدوروں کی ضرورت کو کم سے کم کرنے والی اور زندہ محنت کو زیادہ سے زیادہ نچوڑنے والی مشینری کے متلاشی رہتے ہیں مشین کی جدت میں سرمایہ دارانہ نظام کی ترقی بس یہی ترقی ہے! قوت محنت ہی قدر زائد کا باپ ہے یہی وجہ ہے کہ مشینری کی جدت بھی انہی اصولوں کو مدنظر رکھ کر کی جاتی ہے. سرمایہ دارانہ طرز پیداوار میں جہاں جدت خود مقید ہے وہاں ہی مشین مزدور کو اور زیادہ نچوڑنے کا وسیلہ بنتی ہے. ہونا تو یہ چاہیے کہ انسان آلاتِ پیداوار کے ذریعے ضروری سماجی محنت کو استعمال کرتے ہوئے انسانوں کی بنیادی ضروریات کو سیراب کرنے کیلیے پیداوار کریں، عدم مساوات کا خاتمہ ہو استحصال بند ہو جائے اور مجموعی انسانیت برابری کی بنیاد پر تخلیق کے نئے راستوں پر گامزن ہو لیکن اس کے برعکس سرمایہ دارانہ طرز پیداوار میں آلات پیداوار انسان کو استعمال کرتے ہوئے مفلسی، بدحالی، قلت، فاقے، قحط اور بھوک کے ہاتھوں قتل ہونا اکثریت کا مقدر بناتے جاتے ہیں. محنت کشوں کی زندگیاں جتنی عبرتناک ہوتی جاتی ہیں ذرائع پیداوار کے مالکان کی دولت اور عیش و عشرت میں اسی نسبت سے اضافہ ہوتا جاتا ہے ـ

کارل مارکس داس کیپٹل میں لکھتے ہیں : مجموعی سرمایہ دارانہ پیداوار میں وہ [مشین] نہ صرف عمل محن ہے بلکہ سرمائے کی قدر میں توسیع کا بھی ایک عمل ہے. مشترکہ چیز یہ ہوتی ہے کہ آلاتِ محنت کو کام میں لانے والے مزدور نہیں ہوتے بلکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے، آلات محن مزدور سے کام لیتے ہیں…. آلہ محنت ایک خودکار آلہ میں تبدیل ہو کر عملِ محن کے دوران مزدور سے خود ہی سرمائے کی حیثیت میں دوچار ہوتا ہے یعنی ایسی مردہ محنت کی مانند جو زندہ محنت پر غلبہ رکھتے ہوئے اس کے آخری قطرے تک کو چوس لیتی ہے. یہی کیفیت پیداواری عمل کے دوران دانشورانہ قوتوں کی محنت پر سرمائے کے اقتدار کی حیثیت سے ہوتی ہے. مشینی نظام میں تجسیم شدہ سائنس کی زبردست فطری قوتوں اور سماجی محنت کی موجودگی میں مشین چلانے والے نچوڑے ہوئے مزدور کا جزوی ہنر ننی سی ثانوی چیز کی طرح غائب ہو جاتا ہے” ـ

آلات پیداوار کی جدت اس نظام کے خاتمے کو تاریخی ارتقاء کی ناگزیر ضرورت بناتے جاتے ہیں. گزشتہ بحث میں ہم نے یہ تو دیکھ لیا کہ مصنوعی ذہانت یا جدید ٹیکنالوجی کبھی بھی محنت کو پیداواری عمل سے باہر نہیں کر سکتی پھر بھی اگر ہم یہ فرض کریں کہ انسانیت فلموں میں دکھائے جانے والے ایک مکمل سائنس فکشن عہد (یوٹوپیا) میں داخل ہو جاتی ہے جہاں روبوٹس ہی روبوٹس بنا رہے ہیں روبوٹس ہی خام مال نکالنے اور ان کی تطہیر کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں اور روبوٹس ہی اس خام مال کو اجناس میں منتقل کر رہے ہیں تو کیا اس سائنس فکشن عہد میں کوئی منافع کمانے [قدر زائد] کی کوئی گنجائش موجود ہے؟

مشین اور قوت محنت کا اشتراک اب تکنیکی لازمیت بن چکا ہے. وہ کام جو سیکڑوں افراد مل کر 5 ایام میں مکمل کرتے ہیں وہی کام ایک مشین ایک فرد کیساتھ 5 گھنٹوں میں کر سکتی ہے مثلاً ایکسیویٹر یا ڈرل مشین. ایسے ہی پیداواری عمل میں روبوٹس کا استعمال پیداوریت کو ہزار گنا بڑھا سکتا ہے. لیکن مشین زندہ محنت کے بغیر قدر پیدا نہیں کر سکتی، یہ واضع رہے کہ قدر صرف سرمایہ دارانہ طرز پیداوار کیساتھ مخصوص ہے اور قدر افادہ سے مارکس کے قانون قدر کا کوئی سروکار نہیں. سرمایہ دارانہ نظام کے لیے عمل محن کے دوران قوت محنت کا چوری شدہ حصہ ہی سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے! جیسے جیسے مشین کی جدت بڑھتی جاتی ہے پیداواری لاگت کم ہوتی ہے ویسے اجناس کی قیمتیں کم ہوتی جاتی ہیں یہ ایک جدلیاتی اصول ہے. یہ جدلیات اصول ایسے سائنس فکشن عہد میں جہاں ہر چیز خودکار انداز میں کام کرتی ہے وہاں پیداواری لاگت کو محدود معنی میں صفر کر دیتا ہے (نہ ہونے کے برابر). جب پیداواری لاگت صفر ہو جاتی ہے تو قیمت بھی صفر ہو جاتی ہے اور وہاں نفع کمانے اور دولت بنانے کے امکانات ختم ہو جاتے ہیں. کیا سرمایہ دارانہ نظام منافع کی ہوس کے بغیر قائم رہ سکتا ہے؟ جب پیداواری لاگت اور قیمت صفر ہو جائے تو پھر طرز پیداوار سرمایہ دارانہ نہیں رہ جاتی. مارکس کہتے ہیں “محن زائد گھٹتی بڑھتی رہتی ہے لیکن مخصوص حدود کے اندر. اس کو گھٹا کر کبھی صفر نہیں کیا جا سکتا کیونکہ پھر سرمایہ دارانہ طرز پیداوار باقی نہیں رہ جاتی”. ایسا سائنس فکشن عہد فراوانی والے ایسے میں لے جاتا ہے جہاں بغیر کسی محنت کے ہر کسی کو اس کی ضرورت سے زیادہ مہیا کیا جا سکتا ہے. اس طرح کا سائنس فکشن عہد دو تناظرات کو جنم دیتا ہے خانگی غلامی یا پھر کیمونسٹ سماج ـ

میک کینزی ڈیجیٹل کے حالیہ سروے ( 15 جون 2022) کے مطابق “ڈیجیٹل تبدیلیوں کے باعث قدر خطرے میں ہے…. گزشتہ 2 سالوں میں جو تنظیمیں بڑے پیمانے پر آٹومیشن کی طرف منتقل ہوئیں ان کی اکثریت نے اپنی توقعات سے انتہائی کم قدر حاصل کی… تاہم وہ نئی کمپنیاں جنہوں نے اپنی بنیاف ہی جدید ٹیکنالوجی پر رکھی وہ اپنی حاصل شدہ قدر سے مطمئین نظر آتے ہیں”. کارل مارکس داس کیپٹل میں لکھتے ہیں “مشینری کے ابتدائی دور میں جبکہ اس کو اجارہ داری کی خاصیت حاصل ہوتی ہے اور منافع میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے چنانچہ مزید کا لالچ اور یوم کار کی توسیع کی خواہش بہت زیادہ اور بے حد ہوتی ہے. عام پیمانے پر مشین رائج ہونے سے اجارہ دارانہ منافع غائب ہو جاتا ہے اور وہ قانون اپنے آپ کو مسلط کر لیتا ہے کہ قدر زائد اس محنت سے حاصل نہیں ہوتی جس کہ جگہ مشین نے لے لی بلکہ اس محنت سے حاصل ہوتی ہے جس کو مشین نے کام پر لگایا. یعنی تغیر پذیر سرمایہ” ـ

پیداوار کا ایسا عمل جہاں کسی فرد نے کام نہیں کیا روبوٹس نے خام مال کو اجناس میں بدلا وہاں کوئی قدر پیدا نہیں ہوتی. مشین قدر پیدا نہیں کرتی بلکہ زندہ محنت مردہ محنت [مشین] کی قدر کو مصنوعات میں منتقل کرتی ہے.

جیسے جیسے مشینوں کی تعداد اور صلاحیت میں اصافہ ہوتا جاتا ہے ویسے ویسے ذہنی محنت کی اہمیت اور ضرورت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے. مائیکل رابرٹس لکھتے ہیں “مشین انسانی پیداواری صلاحیت اور اس نسبت سےفی پیداواری یونٹ میں اضافہ کرتی ہے جبکہ مخصوص محاصل کی پیداوار کیلیے درکار مزدور کی زندہ محنت کو کم کرتی جاتی ہے. جیسے ہی روبوٹس مزدور کی جگہ لیتے ہیں تو ذہنی محنت میں اضافہ لازمی ہو جاتا ہے بعض حالات کی پیش نظر ذہنی محنت معروضی محنت کی طرح قدر اور قدر زائد کی پیدا کندہ ہو سکتی ہے یہ انہی اصول کے تابع ہے جن اصولوں کے تابع معروضی محنت” ـ

لیکن اگر ہم انسانی محنت اور خام مال کیساتھ مشین کو بھی قدر زائد کا ماخذ مان لیں تو مشین دو استعمالی قدروں کے تضاد کے سامنے فوراً کریش ہو جائے گی. انسان چونکہ اپنی قوت محنت کی افزائش نو کے قابل ہوتا ہے اس لیے وہ ہر روز اپنی افزائش نو کرتا ہے اور پھر اگلے دن اپنی قدر اجناس میں منتقل کرتا ہے لیکن ٹھوس سرمایہ (مشین، روبوٹس وغیرہ) جو انسانی محنت کی تجسیم شدہ شکل ہے اپنی افزائش نو کے قابل نہیں ہوتا لہذا اگر وہ اپنے اندر مرتکز قدر کسی اور جنس میں منتقل کرے گا تو اسے اپنا آپ تحلیل کرنا ہو گا. جیسے منڈی کسی قدر میں اضافہ نہیں کرتی ویسے ہی مشین آپ ہی آپ قدر میں اضافہ نہیں کر سکتی. مارکس کا کہنا ہے کہ : “اشتراک عمل اور تقسیم محن سے جو پیداواری قوتیں پیدا ہوتی ہیں ان پر کوئی روپیہ خرچ نہیں ہوتا؛ قدرتی قوتوں، بھاپ اور پانی پر بھی کوئی روپیہ خرچ نہیں ہوتا نہ ہی سائنس کی دریافت شدہ قوتوں پر. مگر موخر الذکر کی دستیابی صرف مناسب آلات سے ہو سکتی ہے جس کو صرف زر کثیر خرچ کر کے ہی بنایا جا سکتا ہے” ـ

یہ سب انسانی محنت کی پیداوار اور مجموعی انسانیت کی ملکیت ہے. لیکن محنت کی اس پیداوار پر سرمائے کے تسلط نے ناصرف اس کو مزدور کا سب سے بڑا دشمن بنا رکھا ہے بلکہ خود مشین کی اپنی خصلتیں سرمایہ دارانہ طرزِ پیداوار میں مقید ہیں. کیونکہ سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد حصولِ منافع کے اصول پر قائم ہے اس وجہ سے مشین کی جدت بھی اس مقصد میں قید رہتی ہے. سرمایہ داری کبھی بھی ایسی خودکار پیداوار کا تصور نہیں کر سکتی جہاں بغیر لاگت کے صرف استعمالی قدر پیدا ہو اور منافع کا عنصر غائب ہو جائے. اگر سرمایہ داری کے اندر ایسا ممکن ہو جاتا ہے تو پھر قوت خریر دم توڑنے سے اجناس کے انبھار لگ جاتے ہیں. عدم مساوات کی پہلے سے موجودہ بھیانک شکل مذید بھیانک بن جاتی ہے، ایسے حالات میں اس نظام زر میں غلام دارانہ سماج کی تمام خصوصیات بدرجہ اتم موجود ہیں. یہ ضروری نہیں کہ تاریخ اپنے مثبت پہلو کو ہی دہرائے سرمایہ داری کے ماتحت ہی ایسی کوئی بھی ترقی جدید انسانی تاریخ کا المیہ بن سکتی ہے. یہ سائنس فکشن ہے ـ

دوسری طرف تاریخ ارتقاء کی ناگزیر منزل منتظر ہے جہاں انسانیت کی ہر ضرورت کی تکمیل ممکن بنائی جا سکتی ہے. یعنی انسانی سماج کی طبقاتی تاریخ کا خاتمہ اور اشتراکی سماج کا قیام. اینگلز یوٹوپیا اور سائنسی سوشلزم میں لکھتے ہیں : “سماجی پیداوار کے ذریعے ہر فرد کو محفوظ بنانے کے امکان کا ایسا مادی وجود موجود ہے جو ان کی آزاد جسمانی اور ذہنی نش و نما کی گارنٹی اور ان کے آزادانہ استعمال کی اجازت دیتا ہے. یہ وجود نہ صرف مکمل اور کافی ہے بلکہ روز بروز مزید مکمل ہوتا جا رہا ہے یہ امکان پوری انسانی تاریخ میں پہلی بار یہاں موجود ہے”ـ

طبقاتی جدوجہد

تاہم یہ امکان کبھی بھی پک کر ہماری جھولی میں نہیں گر سکتا یہی وجہ ہے کہ اس سیارے اور انسانیت کے مستقبل کا تعین طبقاتی جدوجہد کی فتح اور شکست پر منحصر ہے. یہ سوال اہم ہو گا کہ مشینوں کی جدت کے بعد طبقاتی جدوجہد کا کیا رخ باقی رہ جاتا ہے؟

پیداواری عمل کے دوران مشین کا ایک مقصد ہم دیکھتے آئے کے مشین کیسے سرمایہ داری کے اندر جدت اختیار کرتی ہے اور کیا نتائج سامنے لاتی ہے. یہاں سے ہم مشین کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں. کیونکہ عمل محن کے دوران مشین بذات خود سرمائے کا روپ دھار کر مزدور سے دوچار ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ مزدور کی مشین سے دشمنی بھی اسی روپ میں قائم رہتی ہے سرمایہ دار مشین کے ذریعے مزدوروں کو بے دخل کرتے ہوئے مزاحمت کے اثرات کو کم کرنے کا دوسرا مقصد بھی حاصل کرتے ہیں. مارکس داس کیپٹل میں لکھتے ہیں: “فیکٹری نظام اور مشینوں کیخلاف مزدور کی جدوجہد جو کہ سرمایہ دارانہ تعلقات کے آغاز سے موجود تھی یہاں سرمایہ دارانہ طریقہ کار کے مادی بنیاد کی حیثیت سے مشین کیخلاف بغاوت کی شکل میں رونما ہوتی ہے”. یہی وجہ ہے کہ سرمایہ دار نہ چاہتے ہوئے بھی طبقاتی کشمکش کی شدت کو ختم کرنے کیلیے جدید مشینوں کے استعمال پر مجبور رہتے ہیں. جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ مصنوعی ذہانت اور آٹومیشن صرف کم صلاحیتوں والے مسلسل دہرائے جانے والے کام سر انجام دیں گی تو یقیناً بلند صلاحیتوں والے پیشوں اور ذہنی محنت میں اضافہ ہو گا ہمیں یہ سمجھنے اور قبول کرنے کی ضرورت ہے کہ آج کے عہد میں ذہنی محنت کرنے والے مزدور بھی ہمارے پرولتاریہ کا حصہ ہیں ـ

اوقاتِ کار میں کمی اور اجرتوں میں اضافے کی جدوجہد طویل مدت سے جاری ہے اور جاری رہے گی. لیکن سرمایہ دارانہ طرز پیداوار میں یومِ کار کا مختصر ہونا استحصال کی شدت میں اضافے کیساتھ مشروط ہے. یہ ممکن ہی نہیں کہ سرمایہ دارانہ طرز پیداوار میں کام کے اوقات کار مختصر ہو سکیں ثبوت کے طور پر گرٹز اور مائیکل کے حالیہ کام سے مستفید ہوا جا سکتا ہے جنہوں نے 17 ترقی یافتہ ممالک بشمول یورپی ممالک، آسٹریلیا، جنوبی کوریا اور امریکہ کی 14 صنعتوں کا مشاہدہ کیا ان کا نچوڑ یہ تھا کہ “صنعتی روبوٹس کی وجہ سے کام کے مجموعی اوقات کار پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا لیکن ان روبوٹس کی وجہ سے غیر ہنر مند اور حتیٰ کے کچھ بنیادی مہارت کے حامل روزگاروں کا خاتمہ ہوا”. تاہم آلات پیداوار میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ یوم کار انتہائی مختصر (چار گھنٹے) کرتے ہوئے ہر فرد کو خوشحالی کیساتھ آزادی اور آرام و سکون والی زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا جا سکتا ہے اس کے ساتھ ہی ہر فرد کو اپنی زندگی کا اظہار کرنے (سماجی ضروری محنت کے استعمال یعنی راوزگار کا حق) دیا جا سکتا ہے. اس موقع اور حق کے حصول کیلیے استحصال زدہ طبقے کی ہر پرت استحصال کرنے والوں کیخلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی یہ جدوجہد سیدھی لکیر میں پر نہیں چلتی اس پر چھوٹی چھوٹی فتوحات اور شکستوں کے نشیب و فراز کا سلسلہ چلتا رہتا ہے. یقیناً مارکس کی صنعتی ریزرو فوج سرمایہ داری کے گورگنوں کے ساتھ مل کر اس نظام کی تعفن زدہ لاش کو دفن کرنے کی کوششوں کو آگے بڑھاتی رہے گی ـ

ہم یہاں منصفانہ کام اور منصفانہ اجرتوں کے حوالے سے مخصوص ذائقے کیلیے اینگلز کے اقتباس کیساتھ آگے بڑھتے ہیں. “ایک دن کی منصفانہ کام کیلیے ایک دن کی منصفانہ اجرت…. یہ پرانا اصولی قول فرسودہ ہو چکا ہے اور موجودہ وقت سے مطابقت نہیں رکھتا. سیاسی معاشیات دان سماج پر حکمرانی کرنے والے قوانین مرتب کرتے وقت جو انصاف برتتے ہیں وہ صرف ایک فریق کیلیے ہوتا ہے… سرمائے کیلیے انصاف. اس لیے اس پرانے نعرے کو ہمیشہ کیلیے دفن کر دینا چاہیے اور اس کی جگہ یہ نعرہ ہونا چاہیے. “آلات محنت، خام مال، فیکٹریوں اور مشینوں پر خود محنت کش طبقے کی ملکیت”،” ـ

ذرائع پیداوار کی اس قدر ترقی کے بعد یہ نظام اب سرمایہ دارانہ طرزِ پیداوار نہیں رہا مارکس کہتے ہیں :”اس سے پہلے وقت محن کی خرید و فروخت آزاد اشخاص کے درمیان ایک تعلق ہوا کرتا تھا: اب نابالغوں اور بچوں کو خریدا جاتا ہے: مزدور اب بیوی اور بچے فروخت کر دیتا ہے اور وہ غلاموں کا سوداگر بن جاتا ہے”. یونی سیف کے ایک تخمینے کیمطابق “2020 کے آغاز میں دنیا بھر میں 63 ملین بچیاں اور 97 ملین بچے” چائلڈ لیبر کا استحصال سہ رہے ہیں. جسطریقے سے سرمایہ دار مشینوں کے ذریعے مزدوروں کو بے دخل کرتے ہوئے مزاحمت کے اثرات کو کم کرتا ہے اسی طریقے سے غلام دارانہ نظام کی پیروی کرتے ہوئے بچوں اور عورتوں کو اجرت پر خرید کر معاشرے کے مرد ممبران کی بغاوت کو کچل دیتا ہے. مارکس کہتے ہیں “فیکٹری میں عورتوں اور بچوں کا داخلہ بالآخر سرمائے کی مطلق العنانیت کیخلاف مرد مزدوروں کی مزاحمت کو ختم کر دیتا ہے”. یقینا آج کی جدوجہد کو سرمایہ داری کی ان شاطرانہ چالوں کیخلاف جدوجہد کیلیے مربوط اور موثر حکمت عملی کی ضرورت ہو گی ـ

یہاں سے ہم مارکس کے قوانین کو شمار کرتے ہوئے اختتام کی طرف بڑھتے ہیں. مشین کے استعمال کا پہلا نتیجہ اجناس کے ڈھیروں کی شکل میں نکلتا ہے. چونکہ سرمائے کی نامیاتی ساخت میں اضافہ اور مزدور کی سماجی ضروری محنت میں کمی کم قدر پیدا کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کی لالچی فطرت شرح منافع برابر کرنے کیلیے فاضل پیداوار کی جاتی ہے اور زائد پیداوار کی وبا پورے نظام میں سرائیت کر جاتی ہے اور سرمایہ دارانہ نظام بحران میں داخل ہو جاتا ہے. بحران سرمایہ دارانہ انارکی کو متحرک کرتا ہے عدم مساوات بڑھ جاتی ہے اور طبقاتی تفریق کی بڑھتی ہوئی خیلیج اس نظام کو بطور سماجی تنظیم بدلنے کی ضرورت سامنے لے آتی ہے. آلات پیداوار کی صلاحیتوں کی ترقی نظام کی بنیادوں سے ٹکراتی ہے اور ذرائع پیداوار اپنی ترقی کے راستے میں رکاوٹ بننے والے اس نظام کو طرزِ پیداوار کی حیثیت سے بدلنے کے تقاضوں کو جنم دیتی ہے ـ

سیاسی معاشیات کی تنقید میں مارکس لکھتے ہیں “کوئی بھی سماجی نظام اس وقت تک تلپٹ نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ تمام پیداواری طاقتیں جن کے پنپنے کی اس نظام میں گنجائش موجود ہوتی ہے خوب پھل پھول نہ چکی ہوں. پیداوار میں نئے اور بلند سطح کے تعلقات اس وقت تک کبھی نہیں ابھرتے جب تک کہ اسی پرانے سماج کے وجود کے اندر سے اس کے لیے مادی حالات اور اسباب پک کر تیار نہ ہو جائیں. یہی وجہ ہے کہ عالم انسانیت اپنے ذمہ وہی فریضہ لیتا ہے جو وہ پورا کر سکے. چنانچہ اگر زیادہ غور کیا جائے تو ہمیشہ یہ بات کھل کر سامنے آ جائے گی کہ خود فریضہ بھی تبھی سامنے آتا ہے جب اس کے لیے مادی حالات یا تو موجود ہوں یا کم از کم اتنا ہو کے آگے بڑھتے بڑھتے کسی مقام پر ان کی نوبت آ جائے. موٹے اندازوں سے یوں کہیں گے کہ ایشائی قدیم یونانی جاگیر داری اور موجودہ زمانے کا بورژواز طریقہ پیداوار ان سب کو معاشی بناوٹ کے درجہ بدرجہ مختلف دور سمجھنا چاہیے. پیداوار کے بورژوائی تعلقات، پیداوار کے سماجی عمل میں تنا تتنی کی آخری شکل ہیں، مطلب یہ نہیں کہ کوئی ذاتی کشا کشی ہے بلکہ اس کا مطلب ہے کہ افراد کی زندگی کے سماجی حالات سے تنا تنی اور ٹکراؤ کی صورت نکلتی ہے. یہی پیداواری طاقتیں جو بورژواز سماج کے وجود کے اندر پنپتی ہیں، اس تنا تنی سے نکلنے کے حالات و اسباب بھی پیدا کر دیتی ہیں. چنانچہ بورژوائی سماجی بناوٹ کے ہاتھوں انسانی سماج کے مقابل تاریخ کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے” ـ

آج ہمارے سامنے اس نظام کو بحیثیت سماجی تنظیم اور طرز پیداوار مکمل طور پر بدلنے کا بڑا فریضہ کھڑا ہے. ہم ایک نئے سماج کی دہلیز پر کھڑے ہیں. یہ دہلیز دو راہا ہے ایک راستہ بربریت کی طرف لے کر جاتا ہے (غلامی) جبکہ کے دوسرا راستہ انسانی سماج کی معراج پر لے جاتا ہے یعنی سوشلزم. نظام کے تلپٹ ہونے کے حالات بھی پک کر تیار ہو چکے اور اسی نظام میں پنپنے والی قوتوں نے اس کے بنیادی اساس کو کھوکھلا کر دیا ہے، مٹی کا یہ دیو اپنے ہی عروج کے ہاتھوں گہری کھائی کے کنارے پر ہے. آج مزدوروں کے پاس حقیقی معنوں میں “کھونے کیلیے کچھ بھی نہیں ہے اور پانے کیلیے سارا جہاں پڑا ہے!” یقینا آخری فتح محنت کش طبقے کی ہی ہو گی ـ

کیمونزم زندہ باد!ـ