مارکس کا پرولتاریہ باشعور کیوں نہیں ہو سکا: ”اپنے اندر طبقہ ہونے“ سے ”اپنے لئے طبقہ بننے“ کی جدلیات۔

Share this

تحریر: واصف اختر

مارکس نے طبقاتی شعور کی وضاحت کرتے ہوئے اس کے دو مدارج بیان کئے ہیں۔ یعنی محنت کش عوام کا ”اپنے اندر طبقہ ہونے“ سے لے کر ”اپنے لئے طبقہ بننے“ تک کا سفر۔ ان دو مدارج پر بہت سی بحث موجود ہے، جسے پڑھنا چاہیے۔ بہرحال یہاں گزارش یہ ہے کہ ان دو مدارج میں جو بات اس بہت سی بحث میں عنقا ہے وہ ”بننے“ کا فینامینا ہے یعنی اپنے لئے طبقہ ”بننے“ کا فینامینا۔ اکثر سوشل ڈیموکریٹ ”بننے” کے اس فینامینا کی سرے سے کوئی سمجھ نہیں رکھتے۔ اور جو کچھ سمجھ بوجھ رکھتے بھی ہیں وہ اسے محض ”ایک عمل“ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس بننے کو محض ایک عمل سمجھنے میں کیا برائی ہے۔۔۔ یہی اس تحریر کا موضوع ہے۔
جب کسی فارم کو تحرک میں دیکھا جاتا ہے تو اچھی بات تو یہ ہے کہ اس تحرک کے باعث اس تحرک کا رجحان بھی دیکھا جا سکتا ہے مگر اس میں بری بات یہ ہے کہ ایک تو اس سے اس فارم کے تحرک کی قوتِ محرکہ کی وضاحت نہیں ہوتی اور دوسرا یہ کہ اس سے ایک خوش فہمی جنم لیتی ہے کہ اپنے رجحان کے سبب یہ تحرک اپنے نتیجہ پہ لازماً منتج ہو گا۔ بالفاظِ دیگر یہ اس منزل تک ضرور پہنچے گا جو اس تحرک کے رجحان سے لازم و ملزوم ہے۔ گویا مندرجہ بالا فینامینا یعنی بننے کو محض ایک عمل سمجھ لینے سے، یا عمل کو محض ایک عمل سمجھ لینے سے، اس کی قوتِ محرکہ کو نہیں سمجھا جا سکتا اور لازمیت کے اصول کے تحت، اس سے وابستہ، فرض کئے گئے نتائج کے بارے میں خوش فہمی پیدا ہو جاتی ہے کہ متوقع نتائج لازماً سامنے آئیں گے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے باؤنڈری کی طرف جاتی ہوئی گیند کو دیکھ کر فرض کر لیا جائے کہ گیند باؤنڈری عبور کر جائے گی۔ گویا اسی مثال کے مطابق فرض کر لیا جائے کہ ”اپنے اندر طبقہ ہونے“ کا لازمی نتیجہ ”اپنے لیے طبقہ بننے“ کی صورت میں نکلے گا۔ مگر حقیقت اس سے یکسر مختلف ہے۔ مارکس کا پرولتاریہ اپنے اندر ایک طبقہ تو ہو گا مگر اپنے لئے ایک طبقہ نہیں بن پا رہا۔ دنیا بھر کے مزدور ایک ہونے کی بجائے ایک ایک ہونے کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ تقسیم کا یہ عمل قومی، مذہبی اور تہذیبی سطحوں پر اپنا واضح اظہار کر رہا ہے۔ ایسے میں ”دنیا بھر کے محنت کشو! ایک ہو جاؤ“ کا نعرہ محض ایک لطیفہ بن کر رہ گیا ہے۔ اکثر مارکسی، جو پریس کلبز کے تحریکی چکر کے گول چکر میں چکراتے رہتے ہیں، پریس کلب کے سامنے ایک چھوٹی سی ٹولی لئے دنیا بھر کے محنت کشوں کو ایک کرتے نظر آتے ہیں، انہیں دیکھ کر ہنسا جا سکتا ہے یا رویا جا سکتا ہے مگر ان سے اتفاق کرنا گویا خود اس خوش فہمی کا شکار ہونا ہے اور مثال مشہور ہے کہ ساون کے اندھے کو سب ہرا ہرا نظر آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ دنیا بھر کے محنت کش اپنے اندر طبقہ ہونے سے اپنے لئے طبقہ کیوں نہیں بن پا رہے تو محاورہ ہے کہ نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی۔ گویا ”بننے“ کا فینامینا محض ایک عمل نہیں بلکہ یہ عمل کسی بنیاد سے مشروط ہے۔ اگر وہ بنیاد مہیا ہو گی اور جس حد تک ہو گی اسی حد تک عمل مکمل ہو گا اور نتائج مرتب ہوں گے۔ اگر بنیاد میسر نہیں تو عمل مکمل نہیں ہو سکتا۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ کیا بنیاد ہے جس کے نتیجے میں طبقہ ”اپنے لئے طبقہ“ بن سکتا ہے۔ اس کا ایک جواب تو بڑا سادہ سا ہے کہ بقول حضرتِ مارکس چونکہ طبقہ اپنے اندر طبقہ ہے، اس لئے فرض کر لیا جائے کہ مارکس ”اپنے لیے طبقہ بننے“ کے عمل کی بنیاد خود بتا گیا ہے۔ مگر یہ نامکمل بات ہے کیونکہ زیرِ نظر سوال محض یہ نہیں کہ ”اپنے لیے طبقہ“ کیسے بنے گا بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ”اپنے اندر طبقہ“ سے ”اپنے لئے طبقہ بننے“ کا عمل کیونکر مکمل ہو سکتا ہے۔ گویا اصل سوال ٹرانزیشن یا بننے کا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو کُل کائنات بشمول تمام تصورات میں بننے کا یہ عمل ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ اگر کوئی بننے کے اس عمل کو گہرائی میں نہیں سمجھتا تو خود اس کے لئے کوئی گہری یا بڑی چیز بنانا ناممکنات میں سے ہے۔ یعنی جیسی بننے کے عمل کی سوجھ بوجھ ہوگی ویسی ہی تخلیق ممکن ہو سکے گی۔ اگر کسی کی سمجھ بوجھ چیزوں کو جوڑ کر بنانے کی ہے تو وہ جوڑنے کے مختلف تجربات کے ذریعے اپنے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ اگر کوئی چیزوں کو ان کے اندر سے دریافت کر کے بنانا جانتا ہے تو یہی اس فرد کا تخلیقی اسلوب ہو گا۔ مگر مارکس کے پرولتاریہ کو مصنوعی طور پر جوڑا جا سکتا ہے نہ اس جڑت کو مصنوعی طور پر اندر سے تخلیق کیا جا سکتا ہے کیونکہ مارکس کا پرولتاریہ کوئی انفرادی یا کمیونٹی پراڈکٹ نہیں بلکہ یہ ایک تاریخی فینامینا ہے جسے کوئی ایک فرد یا کمیونٹی مینوپلیٹ نہیں کر سکتی۔ سادہ الفاظ میں پرولتاریہ کوئی مکان یا ہاؤسنگ سوسائٹی نہیں جسے چند لوگ جیسے چاہیں بنا لیں۔ کوئی بھی تاریخی فینامینا کسی فرد یا جماعت کی مینوپلیشن کے لئے بہت بڑا ہوتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ فرد یا جماعت خود بھی تاریخی عمل کی گہری سوجھ بوجھ کے حامل ہوں۔ سو اب ہم کچھ گہرائی میں جا کر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ پرولتاریہ جیسے تاریخی فینامینا کا ”اپنے اندر طبقہ ہونے“ سے ”اپنے لئے طبقہ بننا“ گویا تاریخی طور پر بننے کا عمل اصل میں ہے کیا؟
بقول ہیگل بننے کا عمل بنیادی طور پر ہونے اور نہ ہونے کے تعامل کی تخلیق ہے اور ایسی تخلیق جو مسلسل حرکت میں ہے کیونکہ ہونے اور نہ ہونے کا تعامل مسلسل رہتا ہے۔ ”جو ہے“ جب اپنے تضاد یعنی ”جو نہیں ہے“ سے تعامل کرتا ہے تو اپنی نفی کی نفی کرتا ہے۔ (کچھ قاری شاید یہاں چونک جائیں سو ریفرنس کے لئے ہیگل اور مارکس کو یا کسی مارکسی استاد کو ضرور پڑھیے اور ابھی اس تحریر کے ساتھ چلتے رہیے)۔ یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے بقول ہیگل یونیورسل اپنی نفی کرتا ہے تو پارٹیکولر بنتا ہے اور جب پارٹیکولر اپنی نفی کرتا ہے تو اینڈویجوئل کا ظہور ہوتا ہے۔ اور بقول لینن، جو اس نے ہیگل کی اس تھیوری پر نوٹ میں کہا، اینڈیویجوئل اپنی نفی یعنی پارٹیکولر کی نفی کرتے ہوئے یونیورسل تخلیق کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ”اپنے لئے طبقہ بننا“ چونکہ بننے کا عمل ہے جو ”اپنے اندر طبقہ ہونے“ کا تعامل ہے ”اپنے اندر طبقہ نہ ہونے“ کی اپنی نفی کے ساتھ اس لئے ”اپنے اندر طبقہ ہونے“ کی فارم سے ”اپنے لیے طبقہ بننے“ کی فارم تک رسائی کے لئے جس بات کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے وہ ”اپنے اندر طبقہ نہ ہونے“ کی فارم ہے۔ لینن کی کامیابی یہی تھی کہ اس نے ”اپنے اندر طبقہ نہ ہونے“ کی فارم کو اتنی ہی لگن اور سچائی سے سمجھا تھا جتنی لگن اور سچائی سے عام مارکسی ”اپنے اندر طبقہ ہونے“ کی فارم کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اب یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ مارکس کے یہاں ”اپنے اندر طبقہ ہونے“ اور ”اپنے لئے طبقہ بننے“ کی فارمز میں فرق کیا ہے۔ سو یہ فرق دراصل شعور کا فرق ہے۔ یعنی پہلی صورت میں پرولتاریہ طبقہ تو ہوتا ہے مگر اسے اس بات کا شعور نہیں ہوتا، گویا صرف معروضی حقیقت ہوتا ہے، جبکہ دوسری فارم میں اسے اپنے طبقہ ہونے کا شعور حاصل ہو جاتا ہے اور یہ طبقاتی شعور اسے ”اپنے لئے “ اقدام کرنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔ یہاں دو بنیادی سوالات کو حل کرتے چلیں کہ مارکس کے یہاں ”طبقہ ہونے“ سے کیا مراد ہے جس کا شعور ہونا ”طبقہ بننے“ کے لئے ضروری ہے۔ اور دوسرا یہ کہ مارکس شعور کو کیا سمجھتا ہے جو پرولتاریہ کے آگے بڑھنے کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ مارکس کے یہاں پرولتاریہ ایک تاریخی فینامینا ہے جو بورژوا سماج کی تشکیل سے جنم لیتا ہے اور شعور اپنی اصل میں سماجی شعور ہے کیونکہ انسان خود ایک سماجی پیداوار ہے (ریفرنس کے لیے مارکس اور اینگلز کو پڑھئیے)۔ اس لیے پرولتاری طبقہ کو اپنے طبقہ ہونے کا احساس ہونا در اصل تاریخی سماجی شعور تک پہنچنے کا سفر ہے۔ مارکس ایک طرف تو لکھتا ہے کہ تاریخی عمل اور بورژوا جبر و استحصال کے نتیجے میں ”اپنے لئے طبقہ بننے“ کا سفر طے کرے گا، اور اکثر مارکسیوں کو بس یہی فقرہ یاد ہے، مگر دوسری طرف مارکس نے اس ٹرانزیشن کا تجزیہ بھی پیش کیا ہے۔ مارکس کے بقول فرد کو معاشرہ جو شعور دیتا ہے، یعنی عمومی سماجی شعور، اس کا اہم ترین ذریعہ اس معاشرے کا حکمران طبقہ ہوتا ہے۔ یہ حکمران طبقے کے نظریات ہوتے ہیں جو محکوموں کی نئی نسل کی پرداخت میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ سو حکمران طبقہ بقول مارکس چونکہ پہلے ہی ”اپنے لئے طبقہ“ ہوتا ہے، یعنی اپنے اجتماعی مفادات کا شعور رکھتا ہے، اس لئے لازمی ہے کہ کبھی نہیں چاہتا کہ دوسرا طبقہ، یعنی پرولتاریہ، کو اپنے اجتماعی مفادات کا شعور حاصل ہو کیونکہ اس صورت میں نہ صرف تحریکیں چلیں گی بلکہ ان تحریکوں کے نتیجے میں پیداواری لاگت میں اضافہ ہو گا اور بری ترین صورتحال میں بورژوا نظام کا بستر گول ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ مارکس مغالطے پر مبنی شعور (فالس کانشیئسنیس) کی موجودگی کا ذکر کرتا ہے۔ اور لینن کا کمال یہ ہے کہ اس نے اس مغالطے پر مبنی شعور کی حرکیات کو گہرائی میں سمجھا جس کی بدولت وہ اس راز تک پہنچ گیا کہ محنت کشوں کو ”اپنے اندر طبقہ ہونے“ سے ”اپنے لئے طبقہ بننے“ کی سطح تک کے شعور تک پہنچنے میں رکاوٹ بورژوازی کا پھیلایا ہوا فالس کانشیئسنیس ہے جو پرولتاریہ کو اپنی ہی نفی یعنی ”اپنے اندر طبقہ نہ ہونے“ کے احساس کا شکار رکھتا ہے۔ یہ فالس کانشیئسنیس کوئی ایسی غیر اہم شے نہیں جسے مارکسی نظر انداز کر دیں! فالس کانشیئسنیس اتنا ہی اہم نظریہ ہے جتنا ”اپنے اندر طبقہ“ اور ”اپنے لئے طبقہ ہونا”۔ ایک تو اس لئے کہ ان تینوں تصورات، یعنی ”اپنے اندر طبقہ ہونے“، فالس کانشیئسنیس، اور ”اپنے لئے طبقہ بننے“، اور یہی ان تینوں کی درست ترتیب ہے، کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا کہ ایک کے بنا باقی دونوں کا وجود اتنا ہی بے معنی ہو جاتا ہے جتنے آج کے مارکسی ہیں کہ پریس کلب کے باہر چلو بھر مقلدین کو ساتھ لئے موسم کا سرد گرم برداشت کرتے ہیں مگر مین سٹریم میڈیا یا کسی اہم اخبار میں ان کی تصویر تک نہیں لگتی۔۔۔ اور یہ حقیقت اور اپنے اصل کردار کو سمجھنے کی بجائے اس طرح نظر انداز ہونے پر خاصے روہانسے اور مایوس بھی رہتے ہیں۔ بہر حال فالس کاشیئسنیس کے حوالے سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ طبقاتی شعور کا حصول یا ”اپنے لئے طبقہ بننا“ اس وقت تک ممکن نہیں ہو سکتا جب تک اس فالس کانشیئسنیس کا سدِباب نہیں کیا جاتا جو بورژوازی نے پھیلایا ہوتا ہے۔ بورژوازی یہ فالس کانشیئسنیس طبقاتی تعلیم، سیاسی اور غیر سیاسی مذہبی تشریحات، سماجی نمو کے پراجیکٹس، سیاسی جماعتوں کے اصلاح پسند اور قدامت پرست ہر دو طرح کے نظریات، قومیت اور مذہب کے نام پر عوام کو ایک دوسرے کے خلاف کرنے اور انہیں آپس میں لڑوانے اور پھر ریاستی احکامات اور نظامِ عدل کی ولگرائزیشن کے ذریعے سے پروان چڑھاتی ہے اور انہی آلات کی مدد سے اسے قائم بھی رکھتی ہے۔ لہٰذا سوشل ڈیموکریٹس کے لئے یہ لازم ہے کہ بورژوازی کے پھیلائے ہوئے فالس کانشیئسنیس کا مقابلہ کریں۔
اب سوال یہ ہے کہ فالس کانشیئسنیس کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ اس کے لئے سب سے بہتر طریقۂ کار بورژوازی سے سیکھنا ہے۔ جیسے بورژوا ریاست اپنے ذرائع نشر و اشاعت کو جدید ترین بناتے ہوئے قدیم ترین افکار عوام کے ذہنوں میں مسلسل انڈیلتی رہتی ہے، تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ “اپنے اندر طبقہ نہ ہونے والا پرولتاریہ” کہیں “اپنے لئے ایک طبقہ” بن کر اٹھ کھڑا نہ ہو، ویسے ہی سوشل ڈیموکریٹوں کے لئے جدید ترین ذرائع نشر و اشاعت تعمیر کرنا اور انہیں بااثر بنانا انتہائی ضروری ہے، تاکہ بورژوازی کے پھیلائے ہوئے فالس کانشیئسنیس کا مقابلہ بھرپور طریقے سے کیا جا سکے۔ آخر میں یہ بات واضح کرتے چلیں کہ بورژوازی کی کامیابی، یعنی عوام کا “اپنے لئے ایک طبقہ نہ بننا” کی بنیاد ان کے پھیلائے ہوئے فالس کانشیئسنیس کی عوامی حمایت ہے۔ اگر اس عوامی حمایت کو فالس کانشیئسنیس کی بجائے کلاس کانشیئسنیس کے حق میں بدل دیا جائے تو بورژوازی کی بجائے سوشل ڈیموکریٹس کو عوامی حمایت مل سکتی ہے بشرطیکہ سوشل ڈیموکریٹوں کی پروپیگنڈا مشینری بورژوازی کی پروپیگنڈا مشینری کے مقابلے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر بااثر ہو۔ اس حوالے سے لینن کا بیسویں صدی کے آغاز میں روسی سوشل ڈیموکریٹک لیبر پارٹی کے لئے پارٹی کا اپنا پرنٹنگ پریس لگانے پر اصرار کرنا اور پھر اس کے لئے درکار فنڈز کا انتظام کرنا، اور پھر کامیابی کے ساتھ پارٹی کا پرنٹنگ پریس قائم کرنا انتہائی اہم ہے۔ پرنٹنگ پریس اس دور کی جدید ترین ٹیکنالوجی تھی۔ آج کی جدید ترین ٹیکنالوجی ٹی وی چینلز، ویب سائیٹ اور سوشل میڈیا ہیں۔ بڑے بڑے نیوز چینلز، پروڈکشن ہاؤسز، ویب سائٹس، اور سوشل میڈیا سیلز فالس کانشیئسنیس کی ترویج میں جٹے ہوئے ہیں۔ سوشل ڈیموکریٹوں اور انکی پارٹی کو بھی اسی طرف بڑھنا ہو گا تاکہ جدید ترین سائنٹیفک افکار پر مشتمل مواد عوام کے سامنے لایا جا سکے۔